hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

جمعیت علماء اسلام کے امیر

مولانا فضل الرحمن (امیر جمعیت علماء اسلام)

 

جمعیت علماء اسلام کے امیر

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کا سانحہ ٔ ارتحال

مولانا فضل الرحمن (امیر جمعیت علماء اسلام)

 

جمعیت علماء اسلام کے امیر حافظ الحدیث و القرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی جو کافی عرصہ سے علیل تھے انتقال کر گئے ۔ حضرت درخواستی سلسلہ دین پور کے عظیم مجاہد 1313 ھ محرم الحرام بروز جمعة اپنے آبائی گاؤں درخواست میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کی نگرانی میں گاؤں میں حاصل کی ۔ 9 سال کی عمر میں حفظ قرآن کی سعادت سے مشرف ہوئے ، اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے مشہور دینی و علمی مرکز دین پور شریف میں حضرت مولانا خلیفہ غلام محمد دین پور کی خدمت میں تشریف لے گئے ۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بخاری شریف مکمل حفظ کر کے سند ِ حدیث حاصل کی اور دستارِ فضیلت سے سر فراز ہوئے ۔

شیخ دین پوری کی ہدایت پر اول بارہ سال درخواست میں تدریس میں مشغول رہے بعد ازاں خان پور میں مخزن العلوم کے نام سے ایک بڑ ا مدرسہ قائم کیا جس میں تقریباً پچاس سال حدیث اور تفسیر قرآن کی تعلیم سے ہزروں نشنگانِ علم کو سیراب فرمایا ۔ جدوجہد آزادی میں حضرت دین کے ساتھ شریک سفر رہے ، قیام پاکستان کے بعد حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ، حضرت احمد علی لاہوری، حضرت مفتی محمد حسن امرتسری ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ، حضرت مولانا مفتی محمود کی معیت میں جمیعت علماء اسلام کے متفقہ امیر کی حیثیت سے ہر دینی تحریک کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، آپ کے شاگرد ہزروں کی تعداد میں دنیا کے کونے کونے میں دینی علوم کی ترویج و اشاعت میں مصروف کا رہیں ۔ رسول ۖ کی محبت آپ کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔

آپ کی وفات سے ایک نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہو گیا ہے

آپ بے لوث خادم ، نڈر عالم اور بے باک بزرگ تھے

 

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی وفات سے دینی حلقوں میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس پر پر ہونا نا ممکن ہے حضرت درخواست کی وفات کا نقصان ایک خان دان کا نقصان نہیں ، ایک گھر کا نقصان نہیں ہے ، ایک صوبے کا نقصان نہیں ہے بلکہ پور ی امت کا نقصان ہے ۔

حضرت درخواستی جو اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے عہد میں میدان میں اُترے اور دنیا بھر میں دین کی شمعیں روشن کر گئے ۔ مدارس قائم کئے ، مساجد بنائین ، اس مقصد کے لئے آپ قریہ قریہ بستی بستی گئے لوگوں میں دین کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے جلسے کئے ، درس کا سلسلہ شروع کیا ۔ ان کی سر پرستی میں ہزاروں مدارس اس وقت چل رہے ہیں ، حضرت درخواستی نے ہزاروں افراد کی روحانی تربیت فرمائی ، وہ ہمارے روحانی باپ تھے ، حضرت درخواستی کی وفات ایک بہت بڑا سانحہ اور حادثہ ہے ۔ حضرت درخواستی کا اب ہم پر یہ حق ہے کہ ہم ان کے مشن کو لے کر چلیں گے اور اس ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، یہی حضرت درخواستی کا مشن تھا ۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.