hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

میرا شیخ درخواستیؒ نشان حق و راستی

میرا شیخ درخواستیؒ

نشان حق و راستی

ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خادم و معالج حضرت درخواستی (ہارٹ سپیشلسٹ بہاولپور)

 

گزشتہ چند سالوں میں علماء ،مشائخ ،صلحاء اس تیزی کے ساتھ دنیا سے اٹھے ہیں کہ اہل اﷲ کی محفل سنسان ہو کر رہ گئی ہے ۔کچھ زیادہ دیر کی بات نہیں 1962میں جب حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی اس وقت ملک ان دل آویز بزرگوں اور صلحاء سے مالا مال نظر آرہا تھاجو علم و فضل اور تقویٰ میں اکابر علماء دیوبند کی یادگار تھے ۔جو ممبر و محراب اور مدارس عربیہ کی چٹائیوں پر بیٹھ کر بر صغیر کی علمی،دینی،تبلیغی اور سیاسی تاریخ کے دھارے موڑتے رہے اور جن کے کردار و عمل نے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کر دی۔لیکن چند سالوں سے یہ بساط اتنی تیزی کے ساتھ لپٹ رہی ہے کہ جدھر نظر اٹھائو سناٹا نظر آتا ہے۔امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ ،شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ،حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ،حضرت مولانا مفتی محمودؒ ،حضرت میاں عبد الہادی دین پوریؒ ،حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ،حضرت مولانا عبید اﷲ انورؒ ،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ ،حضرت مولانا عبدا لحق صاحبؒ،شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا ؒ ،حضرت مولانا مفتی فاروق ؒ ،حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ اورحضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ایک ایک کر کے راہی آخرت ہو گئے اور شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا محمد عبداﷲ درخواستی کی وفات نے تو کمر ہی توڑ دی ہے۔

یوں تو ایک عالم دین کا دنیا سے اٹھ جا نا پورے عالم کے لئے ایک زبردست حادثہ ہو تا ہے لیکن حضرت درخواستی کے اٹھ جا نے سے پورے پاکستان کے علماء اور صلحاء یتیم اور بے سہارا ہو گئے ہیں۔حضرت درخواستی کی ذات وہ بابرکت ہستیوں اور اﷲ والوں کی یادگار تھی جن کے بارے میں شاعر نے صحیح کہا ہے

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہو تا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

حضرت درخواستی سے تعلق گزشتہ پچیس سال سے تھااور اس تعلق کی وجہ ہمارے والد محترم کی ذات ہے جو حضرت مفتی کفایت اﷲ کے شاگرد کے ناطے حضرت درخواستی سے بیعت ہوئے اور یوں پورا خاندان حضرت کا ہو کر رہ گیا۔بہاولپور میں حضرت درخواستی کی شفقتوں اور نوازشات کی یہی وجہ تھی کہ حضرت درخواستی اس ناکارہ کے غریب خانہ کو منتخب فرماتے تھے۔الحمداﷲ ثم الحمد اﷲ پورے تیس برس حضرت درخواستی کی شخصیت اور ذات اقدس کو اس طرح قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو شائد کم لوگوں کو نصیب ہوا۔

حضرت درخواستی کو 1970کے الیکشن میں عجیب ایمانی رنگ میں دیکھا۔1974کی تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں جانثار عاشق رسول ۖ کے روپ میں نظر آتے ہیں۔1977میں تحریک نظام مصطفےٰ میں نشان حق و راستی کے زمزمے کانوںمیں گونجتے سنائی دیتے ہیں۔ 1980میں جب علماء کرام کے ایک گروہ نے اختلافی رویہ اپنایا تو جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبیداﷲ انورؒ کا شیرانوالہ کے مرکز رشدو ہدایت کی جامع مسجد سے اعلان فرماتے ہوئے ابھی تک منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ حضرت درخواستی ؒ آیة من آیت اﷲ ہیں۔

لوگ بارہ سال جمعیت علماء اسلام کی عظیم قوت کو اتحادوں اور لیڈروں کی بھینٹ چڑھاکر دوبارہ حضرت درخواستیؒ کے سایہ شفقت میں آکر سکون محسوس کر تے ہیں،علماء کرام اور حضرت درخواستی کے متعلقین اور متوسلین سے معذرت کے ساتھ کہ حضرت درخواستیؒ کے مزاج اور طریقہ کار کو اگر ہم لوگوں نے سمجھا اور اس پر عمل کیا ہوتا تو نہ عوام پر موجودہ عذاب مسلط ہو تا اور نہ علماء کرام یوں در در کی ٹھوکریں کھا کر اپنی شخصیت سازیاں کر تے نظر آتے۔لاکھ شخصیت سازیاں کر کے لیڈر بن جائیں علماء کرام کا وقار اسی رخ اور مزاج میں تھا جس کا تعین مولانا ہزاروی ،مولانا مفتی محمودؒ ،مولانا عبد الحق ؒ،حضرت دینپوری ؒ اور حضرت لاہوریؒ کر گئے ہیں۔

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

آخری دو سال حضرت در خواستیؒ کو شدید علالت کی حالت میں دیکھا جب دو سال میں تقریبًا تین چار دفعہ آپریشن اور پیشاب کی بندش کی تکلیف کے ساتھ بستر علالت پر رہے۔لاہور ،کراچی اور بہاولپور جہاں بھی ممکن تھا آپ کی اولاد نے پوری خدمت کا حق ادا کر دیا۔آخر میں ڈاکٹر اور سرجن حضرات مایوس ہو گئے کہ اب باقی عمر پیشاب کی نالی کے ساتھ ہی رہنا ہو گا لیکن مجال ہے نشان حق و راستی مدہم ہوئے ہوں وہ اور بھی چمکتے رہے اور جب مایوس ڈاکٹروں کا چہرہ دیکھتے تو فرماتے ڈاکٹر صاحب کو فروٹ کھلاؤ یہ میری وجہ سے پریشان ہیں۔کمال حوصلہ،بردباری،ضبط،صبر اور للٰہیت جو حضرت کے آخری دو سالوں میں دیکھنے میں آئی وہ موجودہ مادی دور کے مارے ہوئے انسانوں کے لئے ایک مستقل باب ہے۔

بڑی سے بڑی تکلیف کے وقت یہی فرماتے اﷲ تعالیٰ رحم فرما ہم کمزور ہیں تیرے سوا کوئی ماوا اور ملجا نہیں۔ہم سب کو مکے اور مدینے پہنچا اور اکثر یہ شعر پڑھتے

اب تو رہے بس تا دم آخر ورد زبان اے میرے الٰہ

لا الہ الا اﷲ لا الہ الا اﷲ

آخری وقت تک علماء کرام کے سامنے دکھ بھری داستانوں کے ساتھ فرماتے خداکے لئے ایک ہو جائو۔علماء دیوبند کی تاریخ مسخ نہ کرو مگر جمعیت علماء اسلام کے موجودہ رہنمایان کرام ابھی یہ چیزیں سمجھنے کے موڈ میں نہ تھے۔

بیمار عشق لے کے تیرا نام سو گیا

مدت کے بیقرار کو آرام آگیا

ڈھونڈیں ہم اب نقوش سبک رفتگان کہاں؟

اب گرد کارواں بھی نہیں کارواں کہاں؟

حضرت درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ اپنی زندگی علم و عمل کے ہر میدان میں قابل رشک طریقے سے گزار گئے۔اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ ان کی نئی زندگی راحت و اطمینان کی زندگی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر رکھے اور ان کی اولاد ،متوسلین کو ان کا صدقہ جاریہ بنائے۔آمین ثم آمین۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.