hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستیؒ اور انکی سیاست

حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی اور انکی سیاست

از قلم مولانا عبد الرشید انصاری


ان کی سیاست شریعت کے تابع اور دینی اقدار کی بالادستی کے قیام کے لئے تھی ، وہ اسلاف کی عظمت اور امام شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ کی روایات کے امین تھے، ان کے انتقال سے اکابر علمائے ربانیین کے بے ریا ، اولو العزم اور پر خلوص دور کا ایک باب ختم ہوگیا۔

حافظ القرآن والحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ کا انتقال اگست 1994 کے اواخر میں سن ہجری کے اسی مہینے کو ہوا جس کی بارہ تاریخ کو محبوب کبریا حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے وصال فرمایا تھا۔ مولانا درخواستی کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب اور اپنے آخری نبی ۖ کے علوم و معارف سے بہت بڑا حصہ عطا فرمایا تھا، علوم نبوت کی تدریس و اشاعت کے لئے انہوں نے اپنی خداداد طویل عمر وقف کئے رکھی، حیات ناپائیدار کے پوری ایک صدی سے متجاوز ہوجانے اور علالت و ضعف جسمانی کے با وجود ان کے روحانی و ذہنی قواء مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔ ان کے جانشین اور بڑے فرزند مولانا فداء الرحمان درخواستی کی جو بجائے خود ایک عمر رسیدہ اور بزرگ ہستی ہیں دینی درس گاہ جامعہ انوارالقرآن میں حضرت حافظ الحدیثؒ کی صحت یابی پر ایک تقریب کے دوران ہم نے خود دیکھا ہے کہ حضرت اگرچہ ضعف و بیماری کے باعث کرسی پر بیٹھ کر تقریب میں شرکت فرماہوئے لیکن گفتگو کا تسلسل اور قوت حافظہ حیران کن تھی۔ آپ ایک ایک کا نام لیکر اس کی خیریت دریافت کررہے تھے اور اس کے ماضی کے واقعات یاد دلا دلا کر اس سے سوالات کر رہے تھے۔ فقیہہ دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ سے فرمایا ”کھڑے ہو جائو” سورة اخلاص سناؤ۔ مولانا لدھیانویؒ نے کمال ادب کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام علماء کے سامنے حضرت کے قریب کھڑے ہو کر سورة اخلاص پڑھی تو فرمایا ” اب وعدہ کرو اور کہو کہ میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ کے مدرسہ میں ہمیشہ کام کرتا رہوں گا۔ حضرت لدھیانویؒ نے یہی الفاظ سب کے سامنے دہرائے، ان سے پہلے اسی طرح حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق ا سکندراور دیگر جید علماء او ر اساتذہ کرام میں سے ایک ایک سے دین کی خدمت میں ہمیشہ منہمک رہنے کا عہد لے رہے تھے۔ حضرت درخواستی ؒ سے تفسیر قرآن مجید اور علوم احادیث نبوی ۖ کا درس لینے والے جید علمائ، آپ کے شاگردوں اور مریدوں کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے جو پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان،افغانستان،برما اور ایران و عرب ممالک کے علاوہ بھی تقریبًا دنیا کے ہر ملک میں اس وقت منبر و محراب اور مدرسہ و خانقاہ کی مساند سے عامتہ الناس اور تشنگان علوم دینیہ کے لئے فیض رساں ہیں۔ مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ نے جو دینی مدارس قائم کئے یا جن کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کی سرپرستی فرمائی ان کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ ہے اور ان دینی مدارس کا سلسلہ بھی پورے ملک کے علاوہ دوسرے ملکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ حضرت درخواستیؒ کا سلسلہ تلمذ و ارادت خانپور کے قریب واقع دین پور شریف کے ان اولیاء و علماء ربانیین سے تھا جو اس عہد میں قرون اولیٰ کی اولو العزم ہستیوں کا نمونہ ، متبعین سنت نبوی اور سندھ اور پنجاب کے سنگم پر امام شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ کی تحریک حریت و جہاد کے نمائندہ اور مرکز تھے۔ ہندوستان میں جب آٹھ صدیوں پر محیط مسلمانوں کا اقتدار مٹ گیا اور حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی کے بعد سسکتے ہوئے مسلمانوں میں نئی روح پھونکنے اور فرنگی سامراج کی متعصبانہ دست برد سے برصغیر کے مسلمانوں کے ایمان کو بچانے کے لئے علوم نبوت کی تحفیظ و تالیف اور تدریس و اشاعت کا عظیم کام اﷲ تعالیٰ نے امام شاہ ولی اﷲ محدث دہلویؒ کے خانوادے اور آپ ہی کے متوسلین و مسترشدین سے لیا۔ مسلمانوں کو افکار باطلہ سے بچانے اور انہیں قرآنی تعلیمات سے براہ راست سیراب ہونے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے قرآن کریم کا سب سے پہلے ترجمہ حضرت امام شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی ؒ نے کیا جو فارسی میں تھا۔ اردو زبان میں آپ ہی کے سلسلہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ اور متبحر عالم مولانا تاج محمود امروٹی ؒ نے جو سلسلہ قادریہ کے بزرگ تھے کیا۔ مولانا تاج محمود امروٹی اور خلیفہ غلام محمد دین پوریؒ امام انقلاب مولانا عبید اﷲ سندھی ؒ کے مرشد سید العارفین حضرت پیر محمد صدیقؒ بھر چونڈی شریف کے اجل خلفاء اور ولی اللہٰی تحریک کے اس علاقے میں انگریزوں اور مبتدعین کے خلاف داعی تھے۔ چھوٹی چھوٹی منقسم ریاستوں پر قابض ہوجانے کے بعد جب دہلی کی مسلم بادشاہت کو بے اختیار اور عملاً بے بس کردیا گیا تو ١٢٣٢ ہجری سے پہلے امام شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کے فرزند امام شاہ عبد العزیز ؒ نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا فتویٰ دیا۔ درحقیقت یہی فتویٰ آگے چل کر جنگ آزادی کی اساس بنا اور 1857میں انگریزوں کو اپنی فوجی چھاؤنیوں میں بھی سپاہیوں کی عام بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ عہد غلامی میں تاریخ نویسی کے لہجے نے اس جہاد آزادی کو ”غدر” کا نام دیا۔ پنجاب اور سرحد میں رنجیت سنگھ کے مظالم نے یہاں کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تو امام شاہ عبد العزیز ؒ ہی کے متبعین الامیر حضرت سید احمد شہیدؒ ، امام شاہ ولی اﷲ دہلوی ؒ کے پوتے حضرت اسماعیل شہید ؒ اور ان کے مریدین اور مسترشدین ہی تھے جنہوں نے سکھا شاہی کے خلاف علم جہاد بلند کرکے اس دور میں خلافت ظاہرہ بھی قائم کر دکھائی۔ جس کے گہرے اسلامی اثرات آج ڈیڑھ سو سال بعد صوبہ سرحد کے مسلمانوں کی زندگی اور معاشرت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ امام شاہ عبد العزیز ؒ کے بعد امام شاہ محمد اسحاقؒ اس تحریک کے روح رواں تھے۔ ان کے بعد انہی کے فیض یافتہ بزرگ حضرت حاجی امداد اﷲمہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ پھر مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ ان کے بعد ان کے تلمیذ خاص حضرت شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ امام شاہ ولی اﷲ دہلویؒ انقلابی تحریک کی مرکزی شخصیات تھے۔ حضرت مولانا عبد اﷲ درخواستیؒ کی مادر علمی و روحانی دین پور شریف ، امروٹ شریف اور بھرچونڈی شریف کی خانقاہوں کا حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک سے گہرا تعلق اور رابطہ قائم تھا۔ 7 اپریل 1944 کو امام انقلاب مولانا عبید اﷲ سندھی ؒ نے حیدرآباد میں جمعیت طلبہ سندھ کے جلسے میں صدارتی خطبے کے دوران اپنے انقلابی فلسفے کی اساس کے بیان میں وضاحتاً بیان فرمایا تھا کہ ”ہم جو یہ کہتے ہیں کہ شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ نے جہاد کے معنی انقلاب بتائے تھے تو یہاں ہم اس بات کی قدرے توضیح کردیتے ہیں ہم نے امروٹ شریف میں چار افراد کی ایک جماعت بنائی تھی جس کا مقصد جہاد کرنا تھا میں اس جماعت کا امیر تھا ۔ یہ جماعت مولانا اسماعیل شہیدؒ کے طریق جہاد پر بنائی گئی تھی۔ ہم نے اس جماعت کے ذریعے جہادی کام شروع کردیا ،بعد میں جب ہم دیوبند گئے اور حضرت شیخ الہند سے برسبیل تذکرہ اس کا ذکر ہوا تو حضرت اقدس نے اس پر بہت اظہار مسرت فرمایا اور آپ نے ہمیں اپنی خاص انقلابی جماعت میں داخل کر لیا۔”

(سندھی سے اردو ترجمہ بحوالہ خطبات و مقالات مولانا سندھی مصنف پروفیسر محمد سرور صفحہ 146 )

دین پور شریف کی خانقاہ قادری راشدی بزرگوں اور حریت پسند فرنگی دشمن مجاہد علماء کا مرکز رہی ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ نے ظاہری و باطنی علوم کی تعلیم یہیں حاصل کی۔ جس طرح حفاظ کرام قر آن کریم کی ایک ایک آیت زبانی یاد کرتے ہیں ، مولانا درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہزاروں احادیث مبارکہ کو بھی اسی طرح بمع روایت و اسناد کے یاد کیا، اسی لئے طبقہ علماء نے انہیں حافظ الحدیث کے محترم لقب سے یاد کیا۔ اپنے مدرسہ مخزن العلوم میں دور دراز علاقوں اور دوسرے ملکوں سے آنے والے طلباء کو تفسیر قرآن اور احادیث نبوی ۖ کا درس دینے کے علاوہ گائوں گائوں بستی بستی اور شہر بہ شہر درس کی محفلوں اور اصلاحی جلسوں میں وعظ و تلقین کے زریعے عام مسلمانوں کو معاشرے میں پھیلی ہوئی جاہلانہ رسموں اور توہمات و بدعات اور خرافات کو ترک کرنے اور قرآنی احکام اور سنت رسول ۖ کی پیروی کی ترغیب دینا اپنا فرض سمجھتے تھے اور عمر بھر اس فرض کو ادا کرتے رہے۔ جب کہپاکستان کی معروف دینی جماعت جمعیت علماء اسلام کے امیر و سربراہ کی حیثیت سے حضرت درخواستیؒ نے جو سیاسی رویہ آخری عمر تک اپنائے رکھا اور سختی کے ساتھ اس پر کاربند رہے وہ ہمارے ملک کی مروجہ سیاست اور سیاست کاروں کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ مولانا درخواستیؒ کے سیاسی روئیے کی اساس آکسفورڈ ،ہالینڈ اور نیویارک کی غیر ملکی درس گاہیں نہیں بلکہ دین پور کی تعلیم گاہ اور خانقاہ اور اس کے بوریا نشین صلحاء و اتقیاء کی صحبت کا فیضان تھا۔ اس لئے انہوں نے ملکی سیاسیات میں حصہ ضرور لیا اور قدم بہ قدم اپنی جماعت کی سیاسی رہنمائی بھی کی لیکن ہمارے ہاں متعارف مفاد پرستانہ سیاست سے ان کی پاکیزہ اور دین و ملت کی خدمت کے جذبے سے سرشار اور بے ریا سیاست کو دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ جمعیت علماء اسلام میں حضرت درخواستی ؒ کے بتیس سالہ دور امارت میں مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود ، مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور ولی ابن ولی حضرت مولانا عبید اﷲ انورؒ ایسے حق شناس و حق آگاہ علماء نے ان کے ماتحت کام کیا جو بجائے خود آخرت کا فکر رکھنے والے اسلاف کا نمونہ تھے۔ حضرت درخواستی نے عمر بھر حاکمان وقت سے کوئی سروکار نہیں رکھا۔ وہ اپنی مسجد کے مصلے اور تدریس کی مسند کو ارباب اقتدار اور دولت مندوں کے محلات پر ترجیح دیتے تھے حتیٰ کہ اپنے مدرسہ کے لئے بھی نہ کبھی کوئی سرکاری امداد قبول کی نہ کبھی اس کے لئے کوشش کی۔ یہی وہ عزیمت و خصوصیت ہے جو انہیں آج کے غمگساران ملک و قوم اور داعیان شریعت و طریقت سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی درویشانہ زندگی میں سکندرانہ جلال ہر دور میں موجزن رہا۔ انہوں نے اپنے اکابر علماء کی عظیم روایات کا تسلسل تا دم واپسیں قائم رکھا، ان کے انتقال کے بعد وہ تسلسل اب باقی نظر نہیں آرہا۔ حضرت درخواستی دنیا کی کسی غرض و غایت کے لئے روساء و امراء اور اہل اقتدار کے دروازے پر جانے اور ان سے تعلقات استوار کرنے کو اپنی شان فقر و درویشی اور دینی طبقے کی توہین کے مترادف سمجھتے تھے بلکہ ان کا سایہ دروازے تک آنے دینے کے بھی روادار نہ تھے۔ راقم مضمون کی اس رائے کو عقیدتمندانہ لفاضی یا مبالغہ آرائی پر محمول نہ کیا جائے۔ حضرت درخواستی کی زندگی کے متعدد واقعات اس حقیقت پر گواہ ہیں۔ آج کل کے مصلحت آشنا اور عیش کوش رہبران ملت کی سبق آموزی کے لئے صرف دو واقعات کا تزکرہ کردینا یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ آپ مسجد نبوی ۖ زاد اﷲ شرفہ میں روضہ رسول ۖ کے سامنے مراقب تھے کہ زائرین روضہ اطہر کے ہجوم میں ہلچل ہوئی۔ سابق صدر پاکستان مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق کی آمد تھی۔ وہ مواجہ شریف کے سامنے حاضر ہو کر سر کار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ہدیہ صلواة وسلام پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہیں حضرت درخواستی کی یہاں موجودگی کی بھی اطلاع مل گئی اس لئے انہوں نے وہیں ملاقات کی اجازت چاہی تو پیغام لانے والے سرکاری فرستادگان کو

حضرت درخواستی نے جو رسالت ما ب صلی اﷲ علیہ وسلم سے کمال عشق و محبت کی بنا پر مدینہ منورہ میں جاکر روضہ مطہرہ کو دیکھتے ہی بے خود ہو جایا کرتے تھے جوابًا فرمایا میں مدینہ منورہ میں صرف ایک کے لئے آیا ہوں اور وہ میرے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں ان کے روضہ اقدس کے سامنے انہیں چھوڑکر میں کسی حاکم کو نہیں مل سکتا۔ ضیاء الحق کو مجھ سے مل کر کیا لینا ہے ، ان کے لئے میرا ایک پیغام ہے وہ انہیں پہنچا دو کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھیں پاکستان کا صدر بنایا ہے اگر اﷲ اور اس کے رسول

کو راضی کرننا چاہتے ہو تو خلوص نیت سے بغیر کسی خطرہ وخدشہ کے مکمل طور پر ملک میں اسلامی شریعت نافذ کر دو یہ پاکستان اور اہل پاکستان کا حق ہے ، اس غصب شدہ حق کو ادا کرو کیونکہ لاکھوں جانیں قربان کر کے اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ یہاں کے عوام اسلامی شریعت کے مطابق اپنی زندگی بسر کر یں۔ ضیاء الحق یہ کام کر لیں تو اﷲ ان سے راضی ہو جائے گا ، مجھ سے ملنے کی ان کو ضرورت نہیں اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ صدر ضیاء الحق نے مولانا سمیع الحق سے کہا کہ میں خود حضرت درخواستی سے ملنا چاہتا ہوں،مسجد نبوی ۖ میں انہوں نے مجھ سے ملنا پسند نہیں کیا۔ وہ بزرگ ہستی ہیں آپ انہیں میری اقامت گاہ پر لے آئیں، وہیں ملاقات ہو جائے گی۔ مگر ولی اللہی روایات کے وارث اور دین پور کے بوریا نشین بزرگوں کے ترجمان اس عالم ربانی نے اپنی جماعت کے جنرل سیکرٹری کو صدر پاکستان کی خواہش سن کر ارشاد فرمایا ” ہمارے شیخ اور مرکز دین پور شریف کے بزرگ حضرت خلیفہ غلام محمد دین پوری فرمایا کرتے تھے کہ امیروں کے ہاں کسی فقیر کا جانا بہت برا ہے ، امیر کو چاہئے کہ وہ فقیر کے دروازے پر خود چل کر جائے۔ اگر ضیاء الحق میرے پاس چل کر آئے گا تو میں اسے بتائوں گا کہ اسلامی نظام کے فوائد کیا ہیں۔ یہ دونوں جہانوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ لوگ صرف دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

دوسرا واقعہ اس سے پہلے کے اس دور کا ہے جب مرحوم ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے۔ ان کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور مولانا کوثر نیازی مرحوم کا وزارت اطلاعات و نشریات کے منصب پر طوطی بول رہا تھا۔ وہ بھٹو حکومت اور پیپلز پارٹی کے اہم ستون تھے۔ انہوں نے پارٹی اور حکومت کے استحکام کے لئے دن رات ایک کر رکھا تھا۔ بھٹو حکومت اور دینی طبقوں کے مابین ”بہتر” تعلقات پیدا کرنے کے لئے وہ خاص طور پر کوشاں تھے۔ اپنی اسی کوشش میں وہ خانپور بھی پہنچے۔ پہلے وہ دین پور گئے۔ حضرت درخواستی کو معلوم ہوا تو وہ گھر سے مدرسے میں تشریف لے آئے۔ دروازے پر ایک طالب علم کو کھڑا کر دیا اور فرمایا جو بھی آئے اسے کہ دو ظہر سے پہلے کسی سے ملاقات نہیں ہوگی۔ مولانا کوثر نیازی اپنے محکمے کے افسران اور ٹی وی ٹیم سمیت آئے اور بے نیل مرام واپس چلے گئے۔ اقتدار کا نشہ عجیب دھوکہ ہوتا ہے۔ یہ جسے بھی چڑھ جائے اس کے پائوں زمین پر نہیں ٹکتے ۔ شہر میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب تھی۔ وہاں جب وہ خطاب کے لئے کھڑے ہوئے تو اس واقعہ کا خود ہی ذکر کرنے لگے ۔ انہوں نے تقریب میں اپنے سرکاری مقاصد کو پوشیدہ رکھتے ہوئے پہلے کہا ہم تو انہیں بزرگ مانتے ہوئے زیرت و ملاقات کے لئے ان کی خدمت میں گئے تھے۔ پیغمبر اسلام تو یہودیوں تک سے ملاقات فرمالیا کرتے تھے لیکن انہوں نے ہمیں اپنے مدرسے میں بھی داخل نہ ہونے دیا۔ وزیر اطلاعات اتنے شکوے پر ہی اکتفا کرلیتے تو شاید اہل خانپور میں ان کے خلوص کا تاثر پیدا ہو جاتا مگر انہوں نے ساتھ ہی آگے چل کر انتقامی اقدام کا عندیہ دیتے ہوئے یہاں تک کہ دیا کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں کہ ایسے عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے حوالے کریںتاکہ انہیں سرکاری احکامات کی اہانت و مخالفت سے روکا جا سکے۔ مولانا درخواستی نے اسی روز نماز عصر کے بعد درس کے اجتماع میں وضاحت فرمائی کہ یہ درست ہے کہ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم یہودیوں سے بھی ملاقات فرمالیا کرتے تھے ۔ وہ

بھی اگر یہودی ہوتا تو میںاس سے ملاقات کرلیتا اور اپنے ہاں اﷲ کے آخری نبی ۖ کے اخلاق کریمانہ کا مشاہدہ کرواکر اسے دعوت حق پیش کرتا لیکن وہ تو حاکم کی حیثیت سے اقتدار کے گھوڑے پر بیٹھ کر آئے تھے، رعونت اور تکبر سے ہم غریبوں کا کیا کام، میں جمعیت علماء اسلام کا امیر ہوں ۔ وہ مجھ سے ملاقات کرکے ملک کے تمام علماء کو حکومت کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لئے اس واقعہ کو استعمال کرتے۔ اس سے علماء کا وقار مجروح ہوتا ۔ اب انہوں نے گرفتاری کی دھمکی بھی دیدی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ اور ان کی حکومت علماء کی تحقیر و تضحیک کرتے ہیں۔ میں انہیں کہتا ہوں یہ شوق بھی پورا کرکے دیکھ لو ، آجائو پولیس لیکر گرفتار کر لو۔ گرفتاری یا حکومت کا کوئی جبر ہمیں ظلم کو ظلم کہنے سے نہیں روک سکتا۔ ہم تو انگریزوں سے نہیں ڈرے آج ہمیں راہ حق سے کون ہٹا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد علم و فکر اور زہد و تقویٰ کی ولی اللہی روایات کے حامل بزرگ علماء کی قیادت و سیادت میں جمعیت علماء اسلام نے اپنے جس سفر کا آغاز کیا تھا حافظ القرآن والحدیث حضرت درخواستی کے گزشتہ سال انتقال سے صدق و صفا اور اعلائے کلمتہ الحق کی جدو جہد مساعی کا وہ سفر رک گیا ہے۔ جمعیت علماء اسلام بھی اب عام جماعتوں جیسی ہے ۔ اب س کے پاس کوئی شیخ الاسلام ، کوئی شیخ التفسیر اور کوئی حافظ الحدیث نہیں ہے جو کجکلاہوں اور اصحاب سیم و زر کو خاطر میں نہ لاتا ہو۔ جس کی رہنمائی اور اتباع کرتے ہوئے وہ ملک کی باقی جماعتوں میں اپنا تاریخی تشخص اور طرہ امتیاز بر قرار رکھ سکتی ۔ جمعیت کے پہلے امیر شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ، دوسرے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری اور ان کے بعد حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ جمعیت کے امیر تھے۔ یہ حضرات پاکستان میں قولاً و عملاً دینی سیاست کے علمبردار تھے۔ ان کا اعلیٰ کردار ان کے دعوے کے مطابق تھا۔ ان کا علمی مرتبہ تمام علماء میں بلند اور روحانی منصب اہل ذکر و فکر میں بہت اونچا رہا۔ انہیں دیکھ کر قرون اولیٰ کے فقہا اور محدثین کی یاد تازہ ہوتی تھی۔ انہوں نے دین کے پاک نام کو دنیا داری کی آلائشوں سے کبھی آلودہ نہیں ہو نے دیا ۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور تمام مکاتب فکر میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی سیاست شریعت کے تابع رہی اور وہ پاکستان میں دینی اقدار کی بالا دستی ہی کے لئے جدو جہد کرتے رہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی کی سیاست کا مقصد اس کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ ان کے انتقال سے یہ باب بند ہو گیا۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ تمام اسلاف اور علماء و صلحاء کی قبور کو رحمت اور نور سے بھر دے اور پاکستان کی سلامتی اوریہاں دین کی بقاء و بالادستی کے قیام کا اپنی قدرت سے سامان پیدا کردے۔

ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد

Leave A Reply

Your email address will not be published.