hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حضرت درخواستی کی چند کرامات

حضرت درخواستی کی چند کرامات

عبد الستار انجم ابو الخیری

 

تقریبًا بیس سال پہلے کا واقعہ ہے کہ مدرسہ ریاض الاسلام جنڈانوالہ جھنگ کا سالانہ جلسہ تھا۔ جون جولائی کا مہینہ تھا۔ سخت گرمی تھی۔ لوگ بے حال ہو رہے تھے۔ تمام مقررین کے آخر میں حضرت حافظ الحدیث مولانا محمد عبد اﷲ درخواستی رحمتہ اﷲ علیہ وعظ کے لئے ممبر پر تشریف لائے تو بس ایک آدھ جملے کے بعد زبردست آندھی چل پڑی۔ نظام درہم برہم ہونا شروع ہوگیا۔ لوگ اٹھنے شروع ہو گئے۔ بعض لوگ تنبوئوں کے بانسوں کو پکڑے ہوئے تھے بلکہ لٹک لٹک جاتے تھے۔ حضرت درخواستی بار بار فرماتے بیٹھ جاؤ، بھائی بیٹھ جاؤ تمھارے عشق کا امتحان ہورہا ہے لیکن ایسے میں کون بیٹھے۔ تو حضرت درخواستی نے فرمایا تم امتحان میں فیل ہو گئے ۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ آندھی کو بند کردے۔ بس اتنا کہنا تھا کہ فوراً آندھی اس طرح رک گئی کہ اب کوئی پتہ تک نہیں ہل رہا۔ حضرت درخواستی نے فرمایا سب کہو سبحان اﷲ۔ اب حضرت درخواستی کا وعظ شروع ہوا۔ لوگ اطمینان سے بیٹھ گئے۔ چند منٹ ہی گزرنے پائے تھے کہ اب گرمی اور حبس کی وجہ سے لوگ پسینے میں شرابور ہو گئے۔ اب پھر لوگ اٹھنے شروع ہو گئے۔ حضرت درخواستی نے پھر فرمایا ، بیٹھ جاؤ بھائی بیٹھ جاؤ۔ اب تو دوسرا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ لیکن ایسے حبس میں کون بیٹھے۔ اب پھر حضرت درخواستی نے فرمایا تم تو اب دوسرے امتحان میں بھی فیل ہوگئے۔ اچھا اﷲ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ یا اﷲ نہ ہوا کو بند کر ، نہ آندھی چلا، بس ٹھنڈی ٹھنڈی میٹھی میٹھی ہوا چلا۔ بس پھر کیا تھا کہ ہوا کے ٹھنڈے ٹھنڈے ، میٹھے میٹھے جھونکے چلنے لگے جیسا کہ بارش والی ہوا ہوتی ہے۔ سب لوگ خوش ہو کے بیٹھ گئے۔ حضرت درخواستی نے فرمایا کہ دیکھا اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں کیسے قبول کرتا ہے۔ جلسہ کے اختتام کے بعد جب ہم واپس چلے تو ہمارے ساتھ کچھ بریلوی بھائی بھی تھے۔ برملا کہنے لگے کہ ہمارے مولوی تو یونہی غلط بیانی کرتے ہیں کہ دیوبندیوں میں اولیاء نہیں ہوتے اور دیو بندی اولیاء اﷲ کے منکر ہوتے ہیں۔ اب اس سے زیادہ ظاہر باہر اور کون سی کرامت ہو گی۔ اپنے علماء سے تو ہم نے آج تک ایسی کرامت دیکھی نہیں۔

اسی جلسے میں ایک ہمارے دوست ماسٹر غلام محمد صاحب بڑے نعرے لگا رہے تھے ۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ نوجوان داڑھی منڈاتا ہے اور خوب نعرے لگاتا ہے۔ اﷲ کرے خوبصورت بھی ہوجائے اور خوب سیرت بھی ہو جائے۔ سب کہو سبحان اﷲ ۔ وہ نوجوان آج جھنگ کے تبلیغی بزرگوں میں شمار ہوتا ہے۔

ہمارے ضلع کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل باڈیز جناب شیر خان انجم نیازی صاحب حضرت درخوا ستی کی خدمت میں مع اہل و عیال بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ غلہ منڈی جھنگ کے قریب میاں محمد اقبال مر حوم کی کوٹھی میں قیام پزیر تھے۔ نیازی صاحب کے بچے سے آپ نے فرمایا کہ سورة فاتحہ سنائو۔ بچے نے سورة فاتحہ سنادی۔ آپ نے پانچ روپے انعام عطا فرمایا کہ اسے خرچ نہ کرنا۔برکت کے لئے رکھ لینا۔ نیازی صاحب کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ مقروض رہتا تھا۔ اﷲ کے فضل و کرم سے پچھلا سارا قرضہ بھی اتر گیا اور آئندہ کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ نے وسعت کے اسباب پیدا فرمادئیے۔

نیازی صاحب کہتے ہیں کہ جب ہم بیعت ہو کر واپس ہونے لگے تو حضرت درخواستی نے عزیزی محمد اقبال شیروانی سے فرمایا کہ ایک تعویز انہیں دیدو۔ اس نے دیدیا تو فرمایا کہ بیوی سے کہ دو سرہانے رکھ کر سو جایا کریں، اب ڈر نہیں لگے گا۔ حقیقت یہ تھی کہ میری بیوی ساری رات سو نہیں سکتی تھی۔ جونہی آنکھ لگتی چیخ کر اٹھ بیٹھتی۔ ہم نے یہ بات حضرت درخواستی کو نہیں بتائی تھی۔ لیکن حضرت درخواستی نے اپنی فراست و کشف سے یہ بات معلوم کرلی اور اس کے بعد میری بیوی ہمیشہ اطمینان سے سونے لگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.