hafizulhadith - حافظ الحدیث
شیخ الاسلام حافظ القرآن و الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی پون صدی پر محیط دینی خدمات کو انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا ویب پورٹل

حضرت درخواستی کی صلابت و استقامت

حضرت درخواستی کی صلابت و استقامت

مولانا قاضی عبدالکریم۔

مہتمم نجم المدارس

کلاچی

یار ما ایں دار و و آں نیز ہم”   میرے اندازہ میں حضرت درخواستی   بظاہر جمال ہی جمال نظر آرہے تھے مگر جس طرح صدیق اکبر  یقینًا شہادت نبوت کے مطابق ارحم الامتہ بالامتہ تھے لیکن جب وقت آیا اور سیدنا حضرت عمر   جو بنص حدیث  اشدہم فی امر اﷲگویا مجسم جلالی تھے وہ تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سننے کی بھی تاب نہ لا سکے مگر صدیق اکبر   نے عام اعلان کر تے ہوئے فرمایا  من کان یعبد محمدًا فان محمدًا قدمات قال اﷲ تعالیٰ وما محمدً الا رسول (الایہ)

پھر جیش اسامہ   کو واپس کر دینے کے مشورے آپ کو دیے گئے ۔حالات کی نزاکت بتلائی گئی۔اندرونی طور پر فتنہ ارتداد کا حوالہ دیا گیا تو آپ   نے واضح طور پر فرمایا مجھے مدینے کے کتے شہر کی گلیوں میں بوٹی بوٹی کر دیں تو برداشت کر لوں گا لیکن جس لشکر کا جھنڈا حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے باندھ کر دیا اسے کھول کر لشکر واپس کر دوں یہ میرے بس کی بات نہیں۔

مانعین زکواة سے قتال کا ارادہ فرمایا ۔حضرت عمر   جیسے قریب ترین رفیق بھی اس کے حق میں نہیں تھے سخت لہجہ میں فرمایا عمر   تجھے کیا ہو گیا  اینقص الدین وانا حی  میرے ہوتے ہوئے دین ناقص ہو نے لگے یہ بھی کوئی بات ہے۔

میں نے حضرت الامیر رحمتہ اﷲ علیہ کے اندر کبھی مجسم جمال ہونے کے باوجود ایسے واقعات کا مشاہدہ کیا کہ جب ضرورت پیش آئی ادنیٰ توجہ دلانے پر بھی آپ فولادی تلوار بن گئے اور پورا ہائوس بھی اگر مخالف تھاتو یا تو اپنی رائے منوائی اور اختلافی نوٹ دیکر اپنی استقامت کا ثبوت مہیا فرمادیا۔ان میں سے ایک واقعہ 1958کے مارشل لاء کے وقت تنظیم دینیہ کے حوالے سے وفاق المدارس کے ساتھ الحاق اور علوم الحاق کا تھا۔اس وقت کے امیر قطب زمان حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری   تھے اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی   اور مولانا مفتی محمود صاحب   اور بہت سے اکابرین رکن شوریٰ تھے۔حضرت مولانا عبد الواحد   کے علاوہ سب کے سب بزرگ وفاق کے ساتھ الحاق کر نے کے سخت مخالف تھے ۔مولانا عبدالواحد صاحب   نے الحاق کے حق میں کچھ کہنا چاہا تو خود حضرت الامیر شیخ التفسیر  نے سختی سے ان کو ڈانٹا۔میں نے بھی اس سلسلہ میں کچھ کہنا چاہا تو حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی   نے جھڑک کر جواب دیا ۔حضرت شیخ التفسیر   نے اس ناکارہ سے فرمایا کیا بات ہے وضاحت سے کہو۔میں نے عرض کیا حضرت وفاق سے الحاق نہ کر نے کی واضح دلیل بتلائی جا ئے تا کہ باہر جا کر جماعتی دوستوں کو مطمئن کر سکیں۔اس پر ایک وجہ خود حضرت   نے بیان فرمائی اور ایک وجہ مولانا مفتی محمود   نے۔میں نے دونوں کے جواب میں خیر الاساتذہ حضرت مولانا خیر محمد صاحب   کا وہ دعوت نامہ پڑھ کر سنایا جو میرے نام وفاق المدارس سے الحاق کے سلسلہ میں آیا ہوا تھا۔اس کو سن کر حضرت شیخ التفسیر امیر جمعیت   نے فرمایا اس حقیقت سے تو مسئلہ کی نوعیت ہی بدل گئی اب تو اس پر از سر نو غور ہو نا چاہیے۔ظہر تا عصر جس الحاق کی شدید مخالفت ہو رہی تھی اب بعد العصر مغرب سے پہلے پہلے شرح صدر سے متفقہ طور پر یہ تجویز لکھ لی گئی کہ اپنی مدارس کی تنظیم کے سلسلہ میں ہم اپنے مدارس کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ تمام شکوک و شبہات سے بالا تر ہو کر وفاق المدارس میں شامل ہو جا ئیں۔یہ تجویز جمعیت علماء اسلام کی عاملہ میں پاس ہوئی ۔دوسرے دن عام اجلاس تھا جس میں وفاق کے نمائندوں نے بھی شریک ہو نا تھا۔صدر وفاق حضرت الاستاد مولانا خیر محمد صاحب   کی قیادت میں ان کے صاحبزادے حضرت مولانا محمد شریف صا حب  آئے مگر ترجمانی کے لئے حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھری   کو ساتھ بھیجا گیاکہ معاملہ ان کے خیال میں بھی اور حقیقت میں بھی نہایت سنگین تھا اور اختلاف یقینی۔چنانچہ دوسرے دن جب تنظیم مدارس کے موضوع پر بحث کی نوبت آئی تو تجویز سن کر حضرت جالندھری   اور ان کے ر فقاء حیرت زدہ ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ اطلاعات کیاتھیں اور تجویز کیا سامنے آئی۔اس سے جہاں اس وقت کے اکابرین جمعیت کے سماع للخیر ہو نا اور رجوع الی الحق میں ذرہ بھی تنگی محسوس نہ فرمانا اور  اخذ تہ العزة بالاثم  سے کوسوں دور رہنا معلوم ہوا اور ان حضرات کے حقیقی اور قلبی اتفاق کی برکات سے علماء دیوبند کے وفاق کا طول و عرض میں پھیل جانا جس کا نتیجہ بڑا زبر دست نکلا۔بتلانا یہ چاہتا ہوں کہ حضرت شیخ التفسیر   سمیت تمام اکابر کے فیصلہ کے متعلق حضرت درخواستی   نے واضح طور پر فرمادیا میں نے استخارہ کیا ہے مجھے اس میں خیر کی بات نظر نہیں آئی اس لئے میں اس سے اتفاق کر نے سے معذور ہوں۔میں حضرت درخواستی   کی معلوم نرم مزاجی کے باوجود بعض اوقات اپنے عندیہ پر صلابت کی ایک مثال پیش کر رہا تھاتو چونکہ یہ اختلاف للہٰیت پر مبنی تھا اس لئے طرفین میں کدورت محسوس نہیں کی گئی نہ حاضرانہ اور نہ غائبانہ۔وفاق کا طول و عرض تو سب دیکھ رہے ہیں لیکن اس کی گہرائی کو دیکھا جائے تو وفاق کی اصل کامیابی کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت درخواستی   کا استخارہ محض حدیث النفس تھا۔آپ چاہیںتو اسے حضرت درخواستی   کی روحانی فراست سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔اگر چہ عرصہ دراز کے بعد خود حضرت درخواستی   کا مدرسہ بھی غالبًا ملحق کر دیا گیا تھالیکن آپ کی جیادی رائے وہی تھی جو عرض کر دی گئی۔

دوسرا واقعہ ایوبی دور کا یو م شریعت پر انوار العلماء حضرت مولانا عبید اﷲ انور   کی پیٹھ مبارک پر پولیس کا لاٹھیاں بر سانے کا ہے۔اس کے ردعمل میں دوسرے ہی جمعہ کے متعلق جب یہ فیصلہ ہوا کہ جمعیت اسی میدان میں جمعہ ادا کرے گی جہاں لاٹھیاں بر سائی گئیں۔اس کا بھی یہ ناکارہ عینی شاہد بلکہ اس سے بھی کچھ آگے ہوں۔لاہور کے تمام اخبارات اور ایوب مخالف تمامجماعتوں نے جس کا خیر مقدم کیااور جلی عنوانات سے اسے شائع کیا۔لیکن رات گئے جمعیت کی اعلیٰ سطحی کسی مجلس میں اس کو ختم کر دیا گیا۔قبل نمازفجر جب اس کی اطلاع عام پھیل گئی تو جماعت میں سخت بددلی پیدا ہوئی۔احقر نے نماز فجر سے متصل جبکہ حضرت آرام کر نے لگے تو دروازہ کھٹکھٹایا ۔حضرت درخواستی   نے دروازہ کھولا میں نے اخبارات دکھلائے اور فیصلہ کی تبدیلی پر سخت افسوس کیا۔حضرت در خواستی   نے مفتی صاحب   کو بلانے کی ہدایت کی۔قصہ کو تاہ گیارہ بجے پہلا فیصلہ حضرت درخواستی   کے حکم سے بحال ہوا اور پھر اس سے جمعیت کی شہرت اور عزت کو جو چار چاند لگے وہ سب کو معلوم ہے۔اسی رات محمود علی قصوری نے جمعیت کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور دو دن بعد جمعیت کے مغربی پاکستان کے بیس اراکین عاملہ ڈھاکہ پہنچے اور وہاں مثبت جماعتیاتحاد بناجس کے نتیجہ میں ایوب خان چلتے بنے۔اسی واقعہ کو بھی حضرت درخواستی   کی صلابت ،استقامت اور اظہار جلال کی دلیل سمجھتا ہوں۔

تیسرا واقعہ یہ ہے کہ جن دنوں حضرت مولانا مفتی محمود   سر حد کے وزیر اعلیٰ تھے۔عبوری آئین کے لئے مسلمان کی تعریف کی کہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی ،انبیاء علیہم الصلواة والسلام کی رسالت،آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے ختم نبوت اور یوم آخرت کو تسلیم کرے وہ مسلمان ہے اور دلیل میں سورہ بقرہ کی پہلی آیت پیش کی اور  یو منون بما انزل الیک وما انزل من قبلک  سے حضور علیہ الصلواة والسلام  کے ختم نبوت پر استدلال کیا اور بقول حضرت مفتی محمود   خان عبد القیوم خان اور سرحد کی دیگر مشہور شخصیات بھی مطمئن تھیںاور اس کو ترجمان اسلام کے ذریعے اور خود کئی قائدین جماعت نے ہر طرح سراہا۔احقر نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔مفتی محمود   اور ان کے علاوہ دس گیارہ اکابرین کو خطوط لکھے اور دو چار دن کے بعد پنڈی میں جب عاملہ کی میٹنگ ہو رہی تھی اس میں ہر رکن سے علیحدگی میں عرض کیا کہ اس سے تو منکرین حدیث شریف کیا بلکہ پانچ نمازوں کی بجائے تین نمازوں کو فرض سمجھنے والے بھی مسلمان ہو گئے۔ذکری فرقہ،اسماعیلی فرقہ وغیرہ غیرہ سب مسلمان کی تعریف میں شامل ہو گئے۔  فر من المطر وقام تحت المیزاب۔التصدیق بجمیع ماجاء بہ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم   کی تعریف کو چھوڑنا کسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آیا تو سب اراکین میں حضرت درخواستی   نے ہی بحیثیت امیر جمعیت علماء اسلام کے توجہ فرمائی اور حضرت مولانا مفتی محمود   نے یقین دلایا کہ بس وہی پرانی تعریف التصدیق بجمیع الخ کو عبوری آئین میں شامل کروایا جائیگا آپ اطمینان رکھیں۔یہ دور تھا    اذالناس ناش والزماں زمان   کا اس وقت حضرت کی یا با الفاظ دیگر پختگی،عزم،صلابت،استقامت یا امیرانہ اختیارات کے استعمال کے تین واقعات یاد آگئے جو سرسری طور پر پیش خدمت ہیں۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.